[Intro]
چھوٹی باتوں کی فضا میں دُھیمی روشنیاں
غلطی کی بولتی خاموشی، ہنسی کی کمی نہیں
[Verse 1]
ساس کی نفرت کی دیواریں تھیں، روز کی تنہائی
بہو کی نظریں چُبھتے تیر، پھر بھی خاموشی سائے رہی
لالی پیتل کی دیگ کی طرح گھر کی دھڑکن بجتی رہی
پر اندر ایک کہانی تھی جسے وقت پڑھ رہا تھا
[Pre-Chorus]
چائے کا کپ ٹوٹا، مگر رحم کا جال بنا
جاگتی صبحوں میں محبت کا راستہ کھلا ہوا تھا
[Chorus]
یہی سبق تھا جو دل نے سنا: معافی کمزور نہیں
جب بیٹی ہو تو عزتِ محبت یہی ہوتی ہے
اگر بہو کی دنیا میں بھی گھرڑوں جیسا پیار ہو
تو جنت جیسا گھر یہاں بسے، روشن ستارے ہو
[Verse 2]
رات کی چمک میں آنسووں کی پیکر ہلکی ہوئی
باہر نہ سہی اندر کی حقیقت بہار بن گئی
میلے دنوں میں بھی احترام کی راہ دکھائی دی
آگے بڑھ کر ساس نے سہی، گلے لگا دی بہو کو
[Pre-Chorus]
آوازِ دل نے کہا: آپ کی بیٹی یہی اصل ہے
محبت کی زبان سے دن پھر سے روشن ہوا
[Chorus]
یہی سبق تھا جو دل نے سنا: معافی کمزور نہیں
جب بیٹی ہو تو عزتِ محبت یہی ہوتی ہے
اگر بہو کی دنیا میں بھی گھرڑوں جیسا پیار ہو
تو جنت جیسا گھر یہاں بسے، روشن ستارے ہو
[Bridge]
پیار کی گٹھ جوڑ بنے تو رشتے سنور گئے
احترام کی چھاؤں نے دلوں کو نرم کیا
ہمیشہ یاد رکھنا: دل کی حرمت سب سے بڑی
یہی چراغ تھا جو گھر کو جنت بناتا ہے
[Outro]
اب ہر روز محبت اور احترام کی سانسیں برابر ہوں گی
ساس، بہو اور بیٹی مل کر گھر کو ہنستا رہنا بنائے گی