[Intro]
دھوئیں میں گم ہوئی رات، چراغِ دل جلا رہے ہیں
راہِ عشق کی خاک میں تقدیرِ دعا ہم ہیں
[Verse 1]
میں جب تمہاری یاد کی دھوپ سے جل اٹھتا ہوں
سائے کے سِیمن میں تمہاری ہنسی گونجتی ہے
فلک پر ستارے کم پڑ جائیں، مگر تمھاری صورت روشن رہتی ہے
یہ دلِ بندگاں تمہارے نام کی نِت نئی صدا بناتا ہے
[Pre-Chorus]
غم کی گھڑیوں میں تم میرے لئے دعا بن جاتے ہو
میرے آسروں کی دھڑکن تمہارے نام سے جڑ جاتی ہے
[Chorus]
اے روئے مِیرِ عشقِ مسافر، تُو ہمیشہ میرے پاس رہنا
یہ دل تجھ سے جُڑا ہے، تو نہ جدا ہونا کبھی
تیرے بعد دنیا کی رہگزر ویران لگتی ہے
میرے خلوص کی قسم، تو راہنمایی بن جا
[Verse 2]
نامِ خدا کی گلیوں میں تمھارا سایہ ملتا ہے
پرانے قصوں کی خوشبو میں تمہاری شرابِ محبت رچتی ہے
میں جو چاہوں تو حرفِ دعا سے تقدیر بدل جائے گی
تُو شکرِ باران کی انگلی تھام لے، پھر میں بہارا بن جاؤں گا
[Pre-Chorus]
میرے نیم شگفتہ ارمانوں کی گواہی ہے تمہارے ایمان
تم ہی تو ہو وہ چشمِ امید جو مجھے جِینا سکھاتی ہے
[Chorus]
اے روئے مِیرِ عشقِ مسافر، تُو ہمیشہ میرے پاس رہنا
یہ دل تجھ سے جُڑا ہے، تو نہ جدا ہونا کبھی
تیرے بعد دنیا کی رہگزر ویران لگتی ہے
میرے خلوص کی قسم، تو راہنمایی بن جا
[Bridge]
کچے خوابوں کی بستی کو تم نے تعبیر دی ہے
زبانِ عشق میں تمہاری وفا کی قندِ مٹھاس ہے
[Chorus]
اے روئے مِیرِ عشقِ مسافر، تُو ہمیشہ میرے پاس رہنا
یہ دل تجھ سے جُڑا ہے، تو نہ جدا ہونا کبھی
تیرے بعد دنیا کی رہگزر ویران لگتی ہے
میرے خلوص کی قسم، تو راہنمایی بن جا
[Outro]
چلتے رہو، نگاہِ دل میں آباد رہنا
یہ بندگیِ وصال، تم ہی سے آشنا رہے