[Intro]
گاؤں کی ہوا میں خاموشی کی گونج
پرانی قبرستان کے پتے ہلتے ہیں سناں
[Verse 1]
علی جس کا نام روشن امید سے تھا
راستی کی تلاش میں رات کے کنارے آیا
درخت کے سائے تلے چڑیل بیٹھا رویا
لمبے بال، سفید لباس، آنکھوں کی چمک بتائی کہانیوں کا سچ
میں تمہیں نقصان نہیں دیتی، میں حفاظت کرتی ہوں
[Pre-Chorus]
گاؤں والے کہتے ہیں دہشت بس خوف کی زنجیر
میں چاہتی ہوں امن بھری راتوں کا سحر
[Chorus]
ہمیں دکھاؤ اپنے دل کی حقیقت
اگر سائے ہیں تو راستہ روشن کر دو
ہم سنبھالیں گے تمہاری قدغنیں
اور تم بن جاؤ حفاظت کی نشان
[Verse 2]
قبرستان کی پرانی قبر سے ہلکی روشنی جلی
چڑیل نے کہا_bی کہہ دیا اختیاروں کا کردار
علی نے ہمت میں کہا کہانی سچ ہے یا خواب
ہم سب کو مل کر دکھائیں گے گاؤں والوں کو راستہ صاف
[Pre-Chorus]
رات کی خاموشی میں چھپا تھا خوف کا سایہ
چڑیل نے روایتی بدگمانی روک دی
[Chorus]
ہمیں دکھاؤ اپنے دل کی حقیقت
اگر سائے ہیں تو راستہ روشن کر دو
ہم سنبھالیں گے تمہاری قدغنیں
اور تم بن جاؤ حفاظت کی نشان
[Bridge]
روشنی زمین سے اُبھری، سایہ پیچھے ہٹا
گاؤں والے آئے، پردہِ غلط فہمی سرکایا
[Chorus]
ہمیں دکھاؤ اپنے دل کی حقیقت
اگر سائے ہیں تو راستہ روشن کر دو
ہم سنبھالیں گے تمہاری قدغنیں
اور تم بن جاؤ حفاظت کی نشان
[Outro]
اب راتیں امن میں گزرتی ہیں قبرستان کی حدوں پر
گاؤں والے سچ جان کر چڑیل کی قدر جانتے ہیں