[Intro]
ایک گھنے جنگل کی رات، خاموش ستارے دیکھتے ہیں
پھولوں کی ہَوا میں دانۂ راز گونجتا ہے
[Verse 1]
شیر جس کی گردن میں غرور کی زنجير تھی
جنگل کے جانوَر اندر سہمے تھے راتوں میں
وہ روز شکار پاتا، جانی قربان ہَوا میں
خوف کی پگڈنڈیوں پر خاموشی ٹوٹی آہِن سے
[Chorus]
عقل طاقت سے زیادہ قوی ہے، سنو سب یہی کہانی
اتحاد سے ہوتا ہے چیلنج کا انجام روشنِ جوانی
ہم مل کر بولیں تو شیر بھی سمجھ جائے اپنی کمزوری
دِلوں کی ہمت جڑ لے، جنگل پھر بھیے امن کی راہ پر چلے
[Verse 2]
تمام جانور جمع ہوئے، آواز میں دردمند پیغام تھا
ہماری ہمت سے بڑھ کر کوئی سورج کی روشنی نہیں
اگر غرور چھوڑ دو، ہم ساتھ ہیں تو فتح قریب ہے
تخویف کی اندرونی دیواریں ٹوٹیں گی، سچ سب پر آشکار ہے
[Pre-Chorus]
خرگوش کی چال آئی، ہنس کر نہ سنبھال سکی کوئی غرور
وہ پھرتی سے پھسلے راز افشا ہوئے، ہوا میں صرف صدا ہوئی دور
[Chorus]
عقل طاقت سے زیادہ قوی ہے، سنو سب یہی کہانی
اتحاد سے ہوتا ہے چیلنج کا انجام روشنِ جوانی
ہم مل کر بولیں تو شیر بھی سمجھ جائے اپنی کمزوری
دِلوں کی ہمت جڑ لے، جنگل پھر بھیے امن کی راہ پر چلے
[Bridge]
شیر کی آنکھوں میں خوف کے آئنے ٹوٹتے ہیں، جب گھاؤ نہیں
ہم نے سیکھا کہ طاقت کا دامن کم نہیں، عقل کا بول بلند ہے
[Chorus]
عقل طاقت سے زیادہ قوی ہے، سنو سب یہی کہانی
اتحاد سے ہوتا ہے چیلنج کا انجام روشنِ جوانی
ہم مل کر بولیں تو شیر بھی سمجھ جائے اپنی کمزوری
دِلوں کی ہمت جڑ لے، جنگل پھر بھیے امن کی راہ پر چلے
[Outro]
ختم ہوا خوف کا سایہ، نغمہ یہی رہے گا دوستو
کہانی کے پلوں پر ھمراہ ہیں ہم، ہمت کی راہ یہی کہانی
مطلب آج بھی یہی: عقل طاقت سے زیادہ سُچے دل کی پناہ ہے