[Intro]
صبح کی ہنہناتے بیجوں کی طرح بیابان سے چمکتا دن آیا
[Verse 1]
مزمل فادر شکیل وہ چل پڑے، راہِ کراچی کی طرف
سفید پراڈو تیار، نامِ اللہ، سفر کی دوسری طرف
کھیتوں کی خوشبو، لمبی سڑکیں، شہر بہتا جیون کا راستہ
وہ منزل کی طرف گامزن، ہنسی میں بسا ہر اک منظرِ روشنی
[Pre-Chorus]
راہ میں یادیں بنی، ویڈیو کی ریلائیں بنیں
ناظرین کو دکھاتے راستے کی جھلکیاں، ہر موڑ پہ حیرتیں
[Chorus]
رحیم یار خان سے کراچی تک، گاڑی ہمراہ آسمان کی رینج
شوقِ سفر دل میں جگا کر، شکرِ خدا کی موجِ بہار
لاکھوں خواب راستوں پر لکھے گئے، نئی کہانی کی پہلی پناہ
اللّٰہ کا نام لے کر آگے بڑھیں، سفر ہے ہمارا ثبات
[Verse 2]
ہوٹل پر ناشتے کی خوشبو، گرم دن کی پہلی گھڑی
پھر سے روانہ ہوئے، گاڑی کی بیسوں کی دھڑکنِ زندگی
ویڈیو میں منظر دکھائیں، ناظرین سے بانٹیں ہنسی و حوصلہ
گھومتے رہیں شہر شہر، کھلے آسمان کی موسیقی
[Pre-Chorus]
دور تک سفر کی دھوپ، سایہ بنے والدِ پیارا
بیٹے کی آواز گونجے، حوصلہ بڑھائے ہر ہنسا رہا
[Chorus]
رحیم یار خان سے کراچی تک، گاڑی ہمراہ آسمان کی رینج
شوقِ سفر دل میں جگا کر، شکرِ خدا کی موجِ بہار
لاکھوں خواب راستوں پر لکھے گئے، نئی کہانی کی پہلی پناہ
اللّٰہ کا نام لے کر آگے بڑھیں، سفر ہے ہمارا ثبات
[Bridge]
جاری رہے گا… دل کی دنیا میں نئے قدم
کراچی کی روشن دیواریں، نئی مہم کا آغاز
ہو گا سفر کا اختتام، مگر کہانی رہے گی زندہ
[Chorus]
رحیم یار خان سے کراچی تک، گاڑی ہمراہ آسمان کی رینج
شوقِ سفر دل میں جگا کر، شکرِ خدا کی موجِ بہار
لاکھوں خواب راستوں پر لکھے گئے، نئی کہانی کی پہلی پناہ
اللّٰہ کا نام لے کر آگے بڑھیں، سفر ہے ہمارا ثبات
[Outro]
جاری رہے گا… نئی منزلیں، نئی دریاؤں کی صدائیں
سفریں ختم نہیں ہوتیں، یہی ہے مزمل فادر کی راہِ شروعات