[Intro]
صبح کی روشنی میں شہر خاموش ہے، راہ میں گولہ سا سکوت
سوداگار کی ریڑھی اٹھائے سبزی والا، ہنسی اُس کی پُرانی جوتی سے نکلے
[Verse 1]
غریب تھا وہ مگر دل میں روشنی کی کرن تھی
دن بھر بازار میں بِکتی کم سبزیاں، خاموشی تھی
بوڑھی مٹیالی آنکھوں میں پیسے کم تھے مگر عہدِ سخا
وہی مسکراہٹ وہی دی-connect، کہانی کی پہلی بساط پھر بھی راہ
[Pre-Chorus]
امّی، پیسوں کی فکر نہ کریں، لے جائیں جتنی ضرورت ہو
تھی پھر بھی وہ کہتے ہیں، بھلا وہ کیوں نہ ہو؟
[Chorus]
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی، اللہ بدلہ دیتا ضرور
دعاؤں کی برکت سے رزق میں وہ نور جگمگاتا ہے
ہم کہہ دیں: برکت رہے، بھروسہ رہے، منزل رہتی روشن
[Verse 2]
شام کی ہوا میں آہنگِ اخلاق کی گود میں ہلکی خوشبو
بوڑھی عورت کی آنکھوں کا سیپہ، آنسو پر مسکراہٹ کا سہم
بیلوں کی طرح ہلتے قدم، گھر کی طرف اُداس راستہ
انہوں نے لیا نہیں اپنی فکر، بس دعا دی، کیا کَمال وباستہ
[Pre-Chorus]
اللہ تمہارے رزق میں برکت دے، بیٹا، یہی دعا یاد رکھنا
[Chorus]
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی، اللہ بدلہ دیتا ضرور
دعاؤں کی برکت سے رزق میں وہ نور جگمگاتا ہے
ہم کہہ دیں: برکت رہے، بھروسہ رہے، منزل رہتی روشن
[Bridge]
کل کی ہوا بھی سہی، آج کا رزق وہی دکھائے
تھکے ہاتھ، ہمدردی سے بھری کہانیوں میں جڑ جائے
[Chorus]
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی، اللہ بدلہ دیتا ضرور
دعاؤں کی برکت سے رزق میں وہ نور جگمگاتا ہے
ہم کہہ دیں: برکت رہے، بھروسہ رہے، منزل رہتی روشن
[Outro]
یہ سبق ہمارے دلوں میں بس جائے، نیکی کی ہمت کبھی نہ ہارے
{$END$}