[Verse 1]
ایک دن فیکٹری کی شان میں چھپا سا ستارہ تھا وہ لڑکا
نظر پڑی مالک کی، ہمت جلی توڑنے والا پَرِخَس
وہ بولا: کیوں آتے ہو یہاں روز؟ کام نہیں صرف سکون؟
لڑکا ہنس کر کہتا: میں تو سیکھنے آتا ہوں، ہنر اپنے راستے بناتا ہوں
[Chorus]
اگر موقع نہ ملے تو خود کو موقع کے قابل بنا لو
محنت کی راہ میں رکاوٹوں کو ہٹاتے جاؤ
ہمت اگر پگھل جائے تو حوصلہ نہ چھوڑو
یہی سبق ہے دنیا کی، یہی راستہ روشن کرتا ہے
[Verse 2]
کئی سال گزرے، نہ ختم ہونے والی محنت کا پھل ملا
وہی لڑکا اب مالک بن گیا، خواب حقیقت بن گیا
دروازے پر لحنِ فخر لکھتا ہے وہ نشانِ محنت
“موقع نہ ملے تو خود کو موقع کے قابل بنا لو”
[Bridge]
تقدیر کہیں نہیں—اگر ہاتھ مضبوط ہوں
زندگی کی لوہا گرما لیں تو طلسم بن جائے
[Chorus]
اگر موقع نہ ملے تو خود کو موقع کے قابل بنا لو
محنت کی راہ میں رکاوٹوں کو ہٹاتے جاؤ
ہمت اگر پگھل جائے تو حوصلہ نہ چھوڑو
یہی سبق ہے دنیا کی، یہی راستہ روشن کرتا ہے
[Outro]
دروازے پر لکھی ہوئی وہ بات، فتح کی نوید بن جاتی ہے
اگر ہمت کی لکیر ہے تو خواب حقیقت بن جاتی ہے