[Intro]
A voice in Urdu, a whisper of a moment in time
[Verse 1]
18 جون کو فاروق اعظم چوک چارسدہ میں ایک عظیم ش
[Pre-Chorus]
لوگ بیٹھے ہیں سامنے، الفاظ ہے سفرِ وفا
کلماتِ حقیقت میں بندھے، سچ کی دیواروں پر لکیر بنے
[Chorus]
یہ زبانِ ادب کی صدا، دعاوں کا سلسلہ ہے بہتا
سچ بولتی ہوئی ہمت، نرم لہجے میں جُڑتا جاتا
یہ الفاظِ اردو کی محفل، دلوں میں روشنِ اُفق رکھتا
سچ کی راہ پر ہم چلتے رہیں، نہ تھکیں، نہ رُکیں
[Verse 2]
تیز دھوپ میں بھی امید کی چھاؤں ساتھ ہے
ہونٹوں پر وہی الفاظ، وہی وفا کی بات ہے
میرے اندر کی دنیا، تصویریں نہیں، حقیقتیں بتاتی
سچ کی نگاہوں سے دیکھا جائے تو سب کچھ صاف دکھاتی
[Pre-Chorus]
الفاظ کی روایت برقرار، خاموشی بھی زبان بنے
ہر جملہ ایک معجزہ ہے، انسانیت کی رُوح چمکے
[Chorus]
یہ زبانِ ادب کی صدا، دعاوں کا سلسلہ ہے بہتا
سچ بولتی ہوئی ہمت، نرم لہجے میں جُڑتا جاتا
یہ الفاظِ اردو کی محفل، دلوں میں روشنِ اُفق رکھتا
سچ کی راہ پر ہم چلتے رہیں، نہ تھکیں، نہ رُکیں
[Bridge]
اگر کہانی مکمل نہ سہی، سچ کی لکیر باقی ہے
عزمِ دل کی زبان سے ہر راہ روشن رہتی ہے
[Chorus]
یہ زبانِ ادب کی صدا، دعاوں کا سلسلہ ہے بہتا
سچ بولتی ہوئی ہمت، نرم لہجے میں جُڑتا جاتا
یہ الفاظِ اردو کی محفل، دلوں میں روشنِ اُفق رکھتا
سچ کی راہ پر ہم چلتے رہیں، نہ تھکیں، نہ رُکیں
[Outro]
خاموشی سے اٹھے الفاظ، اندر کا نور جگائے
یہ وہ کریکٹر ہے جس کی حقیقت ہمیشہ قائم رہے