[Intro]
ایک صبح کی روشن ہوا، شہر پر خاموشی چھائی
[Verse 1]
ایک سائنسدان تھا، خواب بہت بڑے دل میں بسائے
گرم لہروں سے بنے خطاوں کی کہانی سنائے
جب تجربہ چرچا ہوا، دنیا ہل گئی تھی دنیا کی راہیں ہلا دی
اور ایک دھماکے نے بدل دیا زندگی، روپ سب کا بدل گیا
[Chorus]
غالب تھا غضب نہیں، قوت ہے قابو میں
ہلک کی دنیا میں ہمت نے راہ دکھائی
غصہ نہیں، حفاظت کی چاہ تھی میں نے پائی
شہر کی جان بچانے کو سامنے آیا میں یہی
[Verse 2]
روبوتوں کا حملہ آیا جب خوف شہر میں پھیلا
عمارتیں لرزنے لگیں، امید کی دیوار کھلے دل سے ہلا
میں ڈرا نہیں، کیونکہ اندر ایک طریقہ تھا صاف
اگر میں بدل جاؤں ہلک میں تو بچ جاؤں گا جہاں سب نقصان
[Pre-Chorus]
قابو پانے کی ہمت نے مجھے جیت دی
غصے کی قید توڑ کر دل کی سچائی میں رہ دی
[Chorus]
غالب تھا غضب نہیں، قوت ہے قابو میں
ہلک کی دنیا میں ہمت نے راہ دکھائی
غصہ نہیں، حفاظت کی چاہ تھی میں نے پائی
شہر کی جان بچانے کو سامنے آیا میں یہی
[Bridge]
یہ کہانی سِیکھاتی ہے، طاقت کا مطلب ہے تحمل
صرف طاقت نہیں، restraint ہی اصل کام آتا ہے
[Chorus]
غالب تھا غضب نہیں، قوت ہے قابو میں
ہلک کی دنیا میں ہمت نے راہ دکھائی
غصہ نہیں، حفاظت کی چاہ تھی میں نے پائی
شہر کی جان بچانے کو سامنے آیا میں یہی
[Outro]
آخر کار سمجھا مسافرِ دل نے کہ طاقتِ سچ، قابو میں ہے
یہ شہر اور انسان دونوں کی حفاظت، یہی ہدفِ راہِ میری ہے