[Intro]
شام کی ہَوائیں ہلکی ہوائیں بن گئیں
شاخوں پر پرندے ساونِ ہنسی گانے لگے ہیں
[Verse 1]
ایک چھوٹا خرگوش، قدِ کم، دل بے حد روشن
ہر دن کی ہمت سے بھرا ہوا، خوف بھی تھا کبھی شوخ
دوستوں کی آنکھوں میں سچّا اعتماد بس رہا
وہ رکھتا تھا ایمان، جب مشکلوں نے راستہ روکا تھا
[Chorus]
سچا دوست ہاتھ تھامے رہتا ہے ساتھ
وقت کی گلیوں میں نور بانٹتا جاتا ہے
جب سایہ گِرائے، وہی ہاتھ تھاما کرتا ہے
دوستی کی روشنی سے دل کا آسرا بن جاتا ہے
[Verse 2]
لومڑی کے خوفناک سائے سے بچانے والا بندر آیا
ہنسی اور آنسو میں دنیا کو ہمدردی سکھایا
وہ کہتا: ہمت وہی ہے جو ساتھ چلے، نہ رکے
دوستی میں ایمان ملتا ہے، جب دل دھڑکے پہلو بہ پہلو
[Chorus]
سچا دوست ہاتھ تھامے رہتا ہے ساتھ
وقت کی گلیوں میں نور بانٹتا جاتا ہے
جب سایہ گِرائے، وہی ہاتھ تھاما کرتا ہے
دوستی کی روشنی سے دل کا آسرا بن جاتا ہے
[Bridge]
رونا بھی آتا ہے، ہنسنا بھی آتا ہے
کھلتے ہیں راز جب ہم ایک ساتھ رہتے ہیں
[Chorus]
سچا دوست ہاتھ تھامے رہتا ہے ساتھ
وقت کی گلیوں میں نور بانٹتا جاتا ہے
جب سایہ گِرائے، وہی ہاتھ تھاما کرتا ہے
دوستی کی روشنی سے دل کا آسرا بن جاتا ہے
[Outro]
شام کی روشنی کم نہیں ہوتی، ہم ہنستے ہیں پھر سے
کیوں کہ سچی دوستی ہر مشکل کے بیچ رہتی ہے