[Intro]
گاؤں کی شام، پتوں کی سرسراہٹ
[Verse 1]
علی محنتی تھا، احمد ہوشیار
دوست تھے مگر اکثر جھگڑ لیتے تھے
گاؤں کے باہر باغ میں ملا ایک ننھا پودا
ہم نے کہا: روز پانی دیں گے، اسے سنبھالیں گے
[Chorus]
دوستی یہی راستہ دکھاتی ہے
محنت مل کر ہوشیاری کو بڑھاتی ہے
ساتھ رہیں تو منزل مل جاتی ہے
سچی دوستی سب سے بڑی طاقت ہے
[Verse 2]
دن گزرتے گئے، پودا بڑا ہوا
درخت بن گیا، میٹھے پھلوں کی خوشبو پھیلی
علی بیمار ہوا، احمد اکیلا باغ آیا
پانی دیا، باڑ بنائی، پھل لے آیا علی کے لئے
[Chorus]
دوستی یہی راستہ دکھاتی ہے
محنت مل کر ہوشیاری کو بڑھاتی ہے
ساتھ رہیں تو منزل مل جاتی ہے
سچی دوستی سب سے بڑی طاقت ہے
[Bridge]
جب فرق پڑے، ہم ہنس کر بات سنبھالتے
ہم ہاتھ ملاتے ہیں تو راستے کھلتے ہیں
خودداری نہیں، ہمدردی سب کچھ بدل دیتی ہے
دوستی کی طاقت سے دنیا روشن ہوتی ہے
[Chorus]
دوستی یہی راستہ دکھاتی ہے
محنت مل کر ہوشیاری کو بڑھاتی ہے
ساتھ رہیں تو منزل مل جاتی ہے
سچی دوستی سب سے بڑی طاقت ہے
[Outro]
یہ کہانی ختم نہیں ہوتی، بس یاد رکھو
دوستی اور محنت سے خواب حقیقت بنتے ہیں