[Intro]
گاؤں کی ہنسی کی گونج، دل کی پکار
[Verse 1]
کنواں کنارے رحمت بابا خاموش بیٹھے
ان کے الفاظ دلوں میں اترتے جاتے
بچے شام کو اک دھن کی طرح جمع ہوتے
زندگی کے سُکھ سبق وہ سناتے
[Verse 2]
قحط آیا، گاؤں کی زمین سوکھ گئی تھی
بابا بولے دل خشک ہوں تو کنواں بھی سوکھ جائے
بچوں نے چھوٹے کام کیے، پانی بانٹے
بارش آئی تو گاؤں کی خوشی دوبارہ جگمائے
[Chorus]
دلوں کا کنواں تر ہو تو بارش آتی ہے
ہم مل کر آگے بڑھتے ہیں، سب ساتھ ہوں
امید کی ہنسی گاؤں کو پھر سے جلاتی ہے
[Chorus]
دلوں کا کنواں تر ہو تو بارش آتی ہے
ہم مل کر آگے بڑھتے ہیں، سب ساتھ ہوں
امید کی ہنسی گاؤں کو پھر سے جلاتی ہے
[Outro]
یہی یاد رہے، دلوں کی آبِ حیات ہمیشہ