[Intro]
دیا جائے اک وعدہ، ہریالی کی راہ میں قدم
[Verse 1]
ولک ایک ذہین دل کا رکھتا تھا خواب
قدرت سے تھا عشق، صبح کا پرتو ہاتھوں میں چاپ
دریا کے کنارے بیٹھا، پرندوں کی چہچہاہٹ سُن کر
ہر گزرتی سانس میں زمین کی خزاں کو کندھے دیتی تھی
[Pre-Chorus]
جنگل کی لکیر بڑھتی دیکھ کر دل بوجھل ہوا
سوچنے لگا کیسے بچائیں گے یہ پیار بھرا ساحل
[Chorus]
ہر سال پانچ پودے ہم لگائیں گے
دیکھو نئی شادابی کی ریتھہ چڑھائے گے
پرندے واپس آئیں گے، موسم ہنس پڑے گا
قدرت کی قسم کے وعدے سے دنیا سنور جائے گی
[Verse 2]
لوگوں نے کہا، ہم سب مل کر آگے بڑھیں گے
دہی کے ہر گھر میں بیج اگیں گے، سرسبز کریں گے
ایک دن جب بارشیں خوب ہوں گی فضا میں خوشبو ہوگی
گاؤں کا سفر پھر سے ہریالی سے جُڑا ہوگا
[Pre-Chorus]
دیکھو پتے جھومتے ہیں، درختوں کی رُوح جاگ اٹھے
ہماری ذمہ داری، ہم نے خود کو دکھا دی ہے
[Chorus]
ہر سال پانچ پودے ہم لگائیں گے
دیکھو نئی شادابی کی ریتھہ چڑھائے گے
پرندے واپس آئیں گے، موسم ہنس پڑے گا
قدرت کی قسم کے وعدے سے دنیا سنور جائے گی
[Bridge]
یہ سبق ہے ساده، نیک ارادہ، محنت کے سنگ
قدرت کی محبت سے ملے گا ہمیں آس کا رنگ
[Chorus]
ہر سال پانچ پودے ہم لگائیں گے
دیکھو نئی شادابی کی ریتھہ چڑھائے گے
پرندے واپس آئیں گے، موسم ہنس پڑے گا
قدرت کی قسم کے وعدے سے دنیا سنور جائے گی
[Outro]
ورنہ نہ سہی، مگر دل کہتا ہے ہاں
ہمیں مل کر رکھنا ہے یہ زمین روشن شانوں پر