[Intro]
ہوا میں نغمہ کیھنیں، اُفق کی طرف بڑھتا راہبانہ انداز
[Verse 1]
ظلم کے سایوں سے اُٹھا روشن صبح کا سورج
شکستِ زنجیر سے جڑتے ہیں غلط توقعات کے خواب
عوام کی امیدوں کی گھڑی ہے ٹوٹتی نہیں薄
استبداد کے خلاف آوازیں مل کر بنیں پُر اثر خطب
[Chorus]
یہ صدا وہی ہے جو سب کو اکٹھا کرتی ہے
انصاف کی ہوا میں ہم سب اکٹھے دھڑکتے ہیں
آزادی کی پیاس لے کر وطن کی قسم اٹھاتے ہیں
جدوجہدِ آزادی کا نغمہ دلوں میں گاتے ہیں
[Verse 2]
مزدوروں کی آنکھوں میں بیداری کی روشن صبح
کٹھ پتلیوں کا تخت ہلنے لگا جب ہمت بڑھی
حق کی نگاہوں سے ظلم کا سارا راز چھپتا نہیں
محنت کی تقدیس سے جینے کی سمت بدلنے لگی
[Chorus]
یہ صدا وہی ہے جو سب کو اکٹھا کرتی ہے
انصاف کی ہوا میں ہم سب اکٹھے دھڑکتے ہیں
آزادی کی پیاس لے کر وطن کی قسم اٹھاتے ہیں
جدوجہدِ آزادی کا نغمہ دلوں میں گاتے ہیں
[Bridge]
ظلم کے خلاف سر بلند ہو، ظلم کو ہُوا کی طرح اڑا دے
عوام کی طاقت سے طلوع ہوتی ہے نئی صبح روشن کرے
[Chorus]
یہ صدا وہی ہے جو سب کو اکٹھا کرتی ہے
انصاف کی ہوا میں ہم سب اکٹھے دھڑکتے ہیں
آزادی کی پیاس لے کر وطن کی قسم اٹھاتے ہیں
جدوجہدِ آزادی کا نغمہ دلوں میں گاتے ہیں
[Outro]
ہمارا وطن، ہمارا خواب، ہماری ہمت کا سُر ہے
ظلم کے خاتمے کی ہدایت دلوں کی دھڑکنوں میں ہے
}}