[Verse 1]
زمانے کی دیواروں میں چھپا ایک خواب تھا
علاؤالدین تھوڑی سی غربتِ صبحِ راستہ تھا
ماں کی دعاؤں سے دل روشن تھا، ہنسی دل کی راہ تھی
کھیل کے دنوں میں بھی خوابوں کی گنجلک راہ تھی
[Pre-Chorus]
پرانی خاک سے چمک اٹھا ایک چراغِ راز
جادوگر کا چہرہ چھپا تھا آنکھوں کی خاکشاہ
[Chorus]
چراغ کی روشنی بتائے گی راستہ، رہگزر کی باتیں سنائے گی
خوف کی سائے ہٹائیں گے ہمسفر بن جائیں گے، ہم اک جگہ پائیں گے
علاؤالدین کی امیدِ دل روشن رہے گی، ماں کے لبوں کی دعا ساتھ رہے گی
[Verse 2]
غار کی گہری سناٹوں میں خزانے کی گونج ہے
دل کی ہمت سے چمکتی ہوئی ہنسی کی موج ہے
میں چراغ کو واپس لاؤں گا، سچ کی راہ دکھاؤں گا
ظالم جادوگر کی دنیا سے سچ کا جادو چلاؤں گا
[Pre-Chorus]
غار کی دہلیز پر واپسی کا سانس رکتا نہیں
روشنی کی لکیر چھوئے گی تقدیر کی دیواروں کو
[Chorus]
چراغ کی روشنی بتائے گی راستہ، رہگزر کی باتیں سنائے گی
خوف کی سائے ہٹائیں گے ہمسفر بن جائیں گے، ہم اک جگہ پائیں گے
علاؤالدین کی امیدِ دل روشن رہے گی، ماں کے لبوں کی دعا ساتھ رہے گی
[Bridge]
جب وصل کا dawning ہو، روشنہ دنوں کی مہک پھیلے گی
غار کے اندر بھی امید کی پتنکیاں گلے لگے گی
[Chorus]
چراغ کی روشنی بتائے گی راستہ، رہگزر کی باتیں سنائے گی
خوف کی سائے ہٹائیں گے ہمسفر بن جائیں گے، ہم اک جگہ پائیں گے
علاؤالدین کی امیدِ دل روشن رہے گی، ماں کے لبوں کی دعا ساتھ رہے گی
[Outro]
غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر، روشن ہوا کھل جائے گی
چراغ کی دھیمی روشنی سچ کی سمت لے جائے گی