[Intro]
ہم زبانِِ ویرانی سے کبھی نہیں ہرتے
دوستوں کی ہنسی میں راہ دکھاتے ہم
[Verse 1]
ماجد کہتا مالکِ جگاڑ ہوں، ہنر میرا چھایا
ناکامیوں کی روک تھام، دماغ میری چمک دکھایا
دانش ساتھ ہے، کتابیں لے کر، پرسوں کی فکر میں بسے
پریشان ہوں مگر ہنستے ہیں ہم، کیوں کہ ہم ساتھ ہیں جڑے
[Pre-Chorus]
تایا جی کی باتوں کا طنز، پر ہمیں پتھر کی طرح دکھائیں
پرانی کہانیوں کی رُو سے راستہ بنائیں
[Chorus]
ہم اپنے انداز میں چلتے ہیں، خوابوں کی قطاروں میں جھلملاتے
مشکلیں ہوں یا سیشن، ہمت سے ہم جیت جاتے
ہم ہیں ماجد و دانش، دوستی کا عزم بحر سے گہرا
تایا جی کی کہانیوں میں بھی نہیں ہم ہار جیتا کرتے
[Verse 2]
ماجد کی ہنسی جگاڑ میں روشنی بن جائے، ہر ناکامی کا حل
دانش کی کتابیں گواہ ہیں، صبر کا رُخ روشن
تایا جی کی سنہری یادیں، سبق بن کر ہمارے ہمراہ ہیں
ہم چلتے رہیں گے، وقت کی لہروں پر پہلے سے زیادہ تیار ہیں
[Pre-Chorus]
دریا کی طرح گہرے سوال، جواب ہم بنائیں گے
پرانی قِصوں کی زنجیر توڑ کر آگے بڑھیں گے
[Chorus]
ہم اپنے انداز میں چلتے ہیں، خوابوں کی قطاروں میں جھلملاتے
مشکلیں ہوں یا سیشن، ہمت سے ہم جیت جاتے
ہم ہیں ماجد و دانش، دوستی کا عزم بحر سے گہرا
تایا جی کی کہانیوں میں بھی نہیں ہم ہار جیتا کرتے
[Bridge]
اگر وقت ہمیں آزمائے، ہم ثابت کریں گے ہم کہاں تک چل سکتے ہیں
دوستی کی روشنی میں، راستے ہم اپنی بناتے ہیں
[Chorus]
ہم اپنے انداز میں چلتے ہیں، خوابوں کی قطاروں میں جھلملاتے
مشکلیں ہوں یا سیشن، ہمت سے ہم جیت جاتے
ہم ہیں ماجد و دانش، دوستی کا عزم بحر سے گہرا
تایا جی کی کہانیوں میں بھی نہیں ہم ہار جیتا کرتے
[Outro]
ہمیشہ ساتھ رہیں گے، رستوں کی پروا نہیں کرتے
دوستی کی گَیت میں ہم نئے خواب بساتے ہیں