[Intro]
شہر کی گونج میں سنو
[Verse]
جانی لگتا ہے تیرا ضمیر مر گیا
تو جسموں کا فقیر بن گیا
[Chorus]
امیری کی راہ میں ضمیر بھول گیا
خوبصورتی کے خواب تیرے ہتھیار بن گئے
یہ دنیا تیری سچائی سے دور رہی
[Verse 2]
تو امیر بن گیا مگر دل سے دور ہوا
سچ کی صدا خاموش، فخر کی روشنی بجھ گئی
[Chorus]
امیری کی راہ میں ضمیر بھول گیا
خوبصورتی کے خواب تیرے ہتھیار بن گئے
یہ دنیا تیری سچائی سے دور رہی
[Outro]
واپس آ ضمیر کی آواز سنو
یہ دنیا پھر تم کو سچ دکھائے گی