[Intro]
بارش کی ربڑ سی بوندیں، شہر کی گلیوں پر نغمہ
کھڑکی کے پاس عائشہ، خاموشی میں خوابوں کی پاپی
[Verse 1]
پہلے تھی وہ کمزور، ہمت سے خالی مگر عزم کی آگ جالی
لوگ کہتے رہے ہار، پر وہ سچ میں آگہی کی راہ دکھاتی رہی
آن لائن دنیا سجھاتی، ویتنامی نہیں، یہ خواب تھے اصل میں
ہنر کی کنجی وہی پکڑتی رہی، تاکہ راتوں کی تنہائی ختم ہو جائے
[Pre-Chorus]
ایک وائرل جھلک نے بتائی دنیا کو کہ کچھ بدل سکتا ہے
ہاتھوں کی محنت سے تقدیر لکھنا، وہی تو راہ دکھاتی ہے
[Chorus]
یہ بارش نہیں رُکتی جب خواب سانس لیں
وہ عائشہ جس کی آنکھوں میں اب امید کی روشنین ہیں
دنیا کہتی تھی رک جا، وہ چلتی رہی
کیسے بھی ہو حالات، ہمت کی ڈور کبھی نہ توڑتی رہی
[Verse 2]
دو سال کی راہوں میں درد تھا، مگر حوصلہ تھا زیادہ
نئی ویڈیوز، نئی سیکھ، نئے ہنر کی تصویری فصیل
آہستہ آہستہ لوگ ہنسنے کی بجائے تعریف کرتے گئے
وہ جو پہلے کمزور تھی، اب خود پر یقین کرتی رہی
[Pre-Chorus]
ایک آگ روشن ہوئی اندر، خوف vanished ہوا
اگر خواب پر یقین ہو تو دنیا کی کوئی طاقت روک نہ سکے
[Chorus]
یہ بارش نہیں رُکتی جب خواب سانس لیں
وہ عائشہ جس کی آنکھوں میں اب امید کی روشنین ہیں
دنیا کہتی تھی رک جا، وہ چلتی رہی
کیسے بھی ہو حالات، ہمت کی ڈور کبھی نہ توڑتی رہی
[Bridge]
خوابوں کی کیمیا سے بنی تصویریں، ہنر کی روشن دھار
وہ کہانی ہے ایک لڑکی کی، جس نے خود کو پہچان لیا
[Chorus]
یہ بارش نہیں رُکتی جب خواب سانس لیں
وہ عائشہ جس کی آنکھوں میں اب امید کی روشنین ہیں
دنیا کہتی تھی رک جا، وہ چلتی رہی
کیسے بھی ہو حالات، ہمت کی ڈور کبھی نہ توڑتی رہی
[Outro]
اب عائشہ کھڑکی کے پاس بیٹھی ہے، بارش بھی رُکنے کو تیار نہیں
پر اندر کی روشنی ایسی کہ شبِ سرچشمی سے روشن صبح نکلی