عمر عرف تنہا ملنگ حمید شاہ عرف کاکا جمشید عرف شیدو اویس عرف ناٹ مدثرعرف شادی شدہ صدام عرف عالیان جیو ان کی فرمائش
[Verse 1]
وہ یادیں جو ہنستے تھے ہم ساتھ تھے جب
خوابوں کی گلابتی راکھ میں چراغ جلائے تھے
آہستہ سے گاتا ہوں وہ ہمسفر نامہ
ساحلِ دل پر تمہاری سانسوں کی سطح چاپکتی ہے
[Pre-Chorus]
تم دکھو تو دنیا سُکّی نہیں لگے
تم بن موسموں کی بارش رْک جائے
[Chorus]
کوئی تو رہنمائی کرے، دیا بجھتا نہ رہے
تیرا نام لے کر راتوں میں ہم جاگتے ہیں
پھولوں کی خوشبو سے سجا ہوا رہ گزرتا ہے
میری دعا ہے، تو ہمیشہ ساتھ رہے
[Verse 2]
نیند کی سوکھتی راہوں پر تمہاری ہنسی
دھوپ بن کر آتی ہے، سردی کو بھگائے
میں کتابِ زندگی میں تمہارے صفحات پڑھوں
ہر لفظ میں تمہاری یاد بن جائے
[Pre-Chorus]
تم دکھو تو دنیا سُکّی نہیں لگے
تم بن موسموں کی بارش رْک جائے
[Chorus]
کوئی تو رہنمائی کرے، دیا بجھتا نہ رہے
تیرا نام لے کر راتوں میں ہم جاگتے ہیں
پھولوں کی خوشبو سے سجا ہوا رہ گزرتا ہے
میری دعا ہے، تو ہمیشہ ساتھ رہے
[Bridge]
جب بارش بھی ہار جائے تو ہم سہارا بن جائیں گے
جب فاصلہ کم نہ ہو تو لَو کے کنارے بلالیں گے
[Chorus]
کوئی تو رہنمائی کرے، دیا بجھتا نہ رہے
تیرا نام لے کر راتوں میں ہم جاگتے ہیں
پھولوں کی خوشبو سے سجا ہوا رہ گزرتا ہے
میری دعا ہے، تو ہمیشہ ساتھ رہے
[Outro]
تم ہے تو ساگر کی لہریں بھی ہمسفر لگیں
یہ دنیا میری ہے جب تم ساتھ ہو، بس یہی کافی ہے