[Intro]
وہی دیوارِ ضد، وہی محبت کا رستہ
دو نسلی سوچیں، ایک دل کی دھڑکن ساتھ
[Verse 1]
رحمان باپ بیٹھا ہے، ہموار راستوں کی دعا
عادل بیٹا جوان خوابوں کا، نیا راستہ چاہے ساحل
پرانا خیالِ حکومتِ ملازمت کی حد بند
نئے خواب ہیں کاروبار کے چراغ جلائے
[Chorus]
تم کیوں رکواتے، میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں
دنیا کہتی ہے ٹھیک، دل کہے راستہ دکھا
یہی ہے جدوجہدِ گھر کی، یہی ہے صلح کی صدا
ضد کی دیوار گرتی ہے جب محبت پاؤں رکھے
[Verse 2]
بحثیں بڑھتی ہیں جیسے طوفانِ رنگینی
بیٹے کی ہمت، باپ کی خاموشی کی سینی
اگرچہ زخم گہرے، مگر ہاتھ ملتے ہیں آہستہ
ریشے کی طرح جڑیں ملیں، مستقبل بن جائے روشن
[Pre-Chorus]
کبھی آپس کی ہمدردی سے پگھلتے ہیں دے دوستی کے رنگ
یہ شہر کہتا ہے یاد رکھو، باپ بیٹے کا رشتہ بنے سنگ
[Chorus]
تم کیوں رکواتے، میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں
دنیا کہتی ہے ٹھیک، دل کہے راستہ دکھا
یہی ہے جدوجہدِ گھر کی، یہی ہے صلح کی صدا
ضد کی دیوار گرتی ہے جب محبت پاؤں رکھے
[Bridge]
ایک دن وہ ہاتھ ملائے گے، ہنسی کے جھونکے لائے گے
بیٹا کہے گا: بابا، تم نے سکھایا خواب دیکھنا
باپ ہنس کر کہے گا: بیٹا، میرا یقین تمہیں حکم دیتا
ساتھ چلو تو شاید دنیا بھی مان لے گی
[Chorus]
تم کیوں رکواتے، میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں
دنیا کہتی ہے ٹھیک، دل کہے راستہ دکھا
یہی ہے جدوجہدِ گھر کی، یہی ہے صلح کی صدا
ضد کی دیوار گرتی ہے جب محبت پاؤں رکھے
[Outro]
آہستہ آہستہ خواب بنتے ہیں حقیقتوں میں
رحمان اور عدیل، ایک راستے پر چلتے ہیں