[Intro]
خاموشی جیل کی دیواروں پر گونجتی ہے
ہر سانس میں صبر کی لہر ہے
[Verse 1]
پاٹھ 1 کی خاموشی سے آغاز، زنجیریں ہلتی ہیں ہاں مگر دل نہیں رکتا
پاٹھ 2 میں Imran Khan کی دنیا، جوتوں کی چمک اور برش کا ہنر
پاٹھ 3 کی مسکراہٹ، مشکل راہوں پر حوصلے کی روشنی
پاٹھ 4 ایک سپاہی کی نگاہ، خوف نہیں مگر نگرانی کی سکون
[Pre-Chorus]
ڈور کھلتا ہے، بڑا دروازہ کرتا ہے轟— مہمان آتا ہے
[Chorus]
ہاں حالات نازک ہیں، مگر ہم ساتھ ہیں
وقت کا اندازہ یہی ہم نے پایا ہے
دل کی سکون کا جنتھہ، نماز کے وقت پر ٹھہرا ہے
وقت ہے، بس دعا کا ہنر ہمارے پاس ہے
[Verse 2]
پاٹھ 6 Fazal ur Rehman کی آمد کی چھاؤں، ملاقات کی پہلی سرگوشی
پاٹھ 7 سپاہی کی آواز، خبر کا ہلکا سا صدائےِ پکار
پاٹھ 8 Imran Khan کی سر اٹھی مسکراہٹ، مہمان کی قربت
پاٹھ 9 مولانا کی سنجیدگی، بات کی گہری دھوپ
[Bridge]
حالات کی نازکی میں ہم صبر کا چُنا راستہ
وقت کا ہاتھ رک جائے تو پھر بھی نماز کا وقت آتا ہے
[Verse 3]
پاٹھ 11 برش نیچے رکھا، ہنرِ صبر کی لکیر دوڑتی
پاٹھ 12 کلائی کی طرف دیکھا، وقت کا اندازہ، دل کی دھڑکن بھی
پاٹھ 13 کہا: "چچا، میرا نماز کا وقت ہو گیا ہے"— سکون کی لہر
پاٹھ 14 یہ خاموشی، جو دھیرے دھیرے کہانی بن جائے
[Chorus]
ہاں حالات نازک ہیں، مگر ہم ساتھ ہیں
وقت کا اندازہ یہی ہم نے پایا ہے
دل کی سکون کا جنتھہ، نماز کے وقت پر ٹھہرا ہے
وقت ہے، بس دعا کا ہنر ہمارے پاس ہے
[Outro]
دروازہ بند ہوتا ہے مگر امید کھلکھلاتی ہے
صبر کی جیل سے نکل کے ہم پھر جی اٹھتے ہیں