[Intro]
خاموش کھیت، روشن صبحیں، قصہ ایک سیدھا راستہ دکھاتا ہے
[Verse 1]
غریب کا بیل اور ہنر مند ہاتھ
علی کی زمین پر دن رات کی محنت جات
بارش کم ہوئی تو بھی حوصلہ نہ ہارا
امیدوں کی روشنی دل سے کبھی نہ مارا
[Pre-Chorus]
ایک دن کھیتوں میں چھوٹی تھیلی ملی، کہانی کی پہلی لکیر
دل میں سوال مگر سچ کی جیت، یہی تھا سفر کی سیر
[Chorus]
ایمانداری سے اٹھا قدم، دکھوں میں بھی ثبات
محنت اور صبر کا پھل میٹھا، یہی حقیقت
نیازے سونے کی تھیلی ہو یا ہدایت کی روشنی
سچی محنت سے ملتا ہے اجر، پختہ ہوئی کہانی
[Verse 2]
تھوڑے سے سکوں کی گود میں امید کی بیج بوئے
بڑی فصل نے دکھوں کو پیچھے چھوڑ دیے
بوڑھے کی بات نے راستہ دکھایا وہی سچا راستہ
ایمانداری کی قدر نے دی انعام کی خوشبو راسا
[Pre-Chorus]
انعام کے سکے نہیں تھے مقصدِ سفر کے ختم
بلکہ سچ کی بازگشت نے بنائی نئی کشتیِ سفر کی کم
[Chorus]
ایمانداری سے اٹھا قدم، دکھوں میں بھی ثبات
محنت اور صبر کا پھل میٹھا، یہی حقیقت
نیازے سونے کی تھیلی ہو یا ہدایت کی روشنی
سچی محنت سے ملتا ہے اجر، پختہ ہوئی کہانی
[Bridge]
کسان کی مسکراہٹ، ہر دُھن میں سہولت کی گواہی
غریب کی قسمت بدلنے والی، صبر کی مکمل کہانی
[Chorus]
ایمانداری سے اٹھا قدم، دکھوں میں بھی ثبات
محنت اور صبر کا پھل میٹھا، یہی حقیقت
نیازے سونے کی تھیلی ہو یا ہدایت کی روشنی
سچی محنت سے ملتا ہے اجر، پختہ ہوئی کہانی
[Outro]
کہانی ختم نہ ہوئی، بس ٹوٹی ہوئی سرحد دوبارہ جڑی
غریب سے سیدھا سچا انسان بن گیا، فی الواقع سچی کہانی