[Intro]
روشَن یاد: سچ کی شرطِ راہ
[Verse 1]
ایک شخص آیا رسولِ خدا ﷺ کے پاس، دل میں ہول کہانی سی لگی
جھوٹ کی گہرائیوں میں گم تھا وہ، بتا دے کون سی برائی چھوڑے
آقا نے فرمایا: جھوٹ چھوڑ دو، حقیقت کی طرف راستہ کھلے گا
وہ عہدِ سچ لے کر چل پڑا، دل پر پہرہ رکھتا وہ سچ بولے گا
[Chorus]
سچ کی راہ سے بنی نیکی کی منزل
جھوٹ کی جڑ اگر کاٹی جائے گی توں دل میں امن بسا جائے گا
سچ بولنا وعدہ، ایمان کی پناہ
دیکھو کیسے گناہ پھر پیچھے رہ جاتے
[Verse 2]
جب ارادہِ گناہ اٹھتا، سوچتا ہے وہ کہ رسول ﷺ پوچھیں تو بتانا ہے
یہ خوفِ سچ اُٹھاتا ہے عزم، گناہ سے وہی انکار کے پالے
آہستہ آہستہ تمام برائیاں رخصت ہوئیں
سنگِ راہ پر سچ کی چمک سے راستہ روشن ہوا
[Pre-Chorus]
جھوٹ چھوڑنے کی ہمت جب جڑتی ہے، نیکی کی ہوا چلے
[Chorus]
سچ کی راہ سے بنی نیکی کی منزل
جھوٹ کی جڑ اگر کاٹی جائے گی توں دل میں امن بسا جائے گا
سچ بولنا وعدہ، ایمان کی پناہ
دیکھو کیسے گناہ پھر پیچھے رہ جاتے
[Bridge]
سچ کی عادت بنے تو ہر برائی سے رُک جانا ہے آسان
جھوٹ کی آگ بجھ جائے تو دل کی دنیا روشن اوّل
[Chorus]
سچ کی راہ سے بنی نیکی کی منزل
جھوٹ کی جڑ اگر کاٹی جائے گی توں دل میں امن بسا جائے گا
سچ بولنا وعدہ، ایمان کی پناہ
دیکھو کیسے گناہ پھر پیچھے رہ جاتے
[Outro]
سبق یہی کہ سچ انسان کو نیکی کی طرف لے جائے
جھوٹ ہر برائی کی جڑ، بس سچ کی صدا ہی ساتھ لے