[Verse 1]
سناٹا تھا گھر کی گلیوں میں، مژیب خان کی دھیمی آہ
پرچھائیاں شہر کی، خوابوں کی طرح آکر بیٹھیں ہنچن
وہ چپکے سے گزرتا تھا، جیسے وفاؤں کی پرچیاں ہتھیاں
یادوں کی مٹھی میں بس اک صدا تھی—یہی میری رہائش گاہ
[Chorus]
ہاتھوں میں ہوا کی خوشبو، مٹی کی عمر یاد دلاتی
مژیب کی ہنسی کی گونج، گلے سے رخصت نہیں جاتی
سرگوشی بن کے گئِں وہ قدم، میری خاکِ وطن بن جاتی
یہی خاک ہے جہاں سے میں جڑتا، وہیں پر میں بس جاتا
[Verse 2]
وہ گُم رہتا تھا سناٹے میں، مگر آواز دل کے پاس تھی
ہر گِرد آلود ہوا میں اُس کی یاد کی پٹی بندھی تھی
پرانی محفلوں کی خوشبو، بیچوں بیچ سانسوں میں باقی تھی
جیسے مٹی کی خوشبو، والدین کی دعاؤں کی لکیر تھی
[Chorus]
ہاتھوں میں ہوا کی خوشبو، مٹی کی عمر یاد دلاتی
مژیب کی ہنسی کی گونج، گلے سے رخصت نہیں جاتی
سرگوشی بن کے گئِں وہ قدم، میری خاکِ وطن بن جاتی
یہی خاک ہے جہاں سے میں جڑتا، وہیں پر میں بس جاتا
[Bridge]
اگر ہو صدا تو کہو کہ آؤ، واپس اُسی راستے پر چلیں
گلیوں کی گود میں پلنے والی یادیں پھر سے پل بنیں
[Chorus]
ہاتھوں میں ہوا کی خوشبو، مٹی کی عمر یاد دلاتی
مژیب کی ہنسی کی گونج، گلے سے رخصت نہیں جاتی
سرگوشی بن کے گئِں وہ قدم، میری خاکِ وطن بن جاتی
یہی خاک ہے جہاں سے میں جڑتا، وہیں پر میں بس جاتا
[Outro]
رہ جاتی ہے وہ فضا، جیسے ماضی کی پریت گہری
مژیب خان کی خاموشی، میرے اندر کی دنیا سہیلی