[Intro]
احساس کا لمحہ آغاز ہوا
[Verse 1]
برگد کے سائے تلے ایک غریب آدمی بیٹھا
خالی ٹوکری ہاتھ میں، دن کی تھکن دل پر لکھا
[Chorus]
طاقت سے نہیں، دلوں کی باتوں سے راستہ نکلتا
احساس کا لمحہ دکھائے، انسانیت جیتتا
[Verse 2]
شرارت بڑھتی ہے، بندر آم پھینکتے ہیں
ایک گرا ٹوکری، دوسرا ہاتھ بڑھا کر مدد کو آتا ہے
[Chorus]
طاقت سے نہیں، دلوں کی باتوں سے راستہ نکلتا
احساس کا لمحہ دکھائے، انسانیت جیتتا
[Outro]
یہ کہانی سچ کہتی ہے: احساس جیت جاتا ہے
احساس کا لمحہ ہم سب کی راہ دکھاتا ہے